15 جون 2009 - 19:30

تہران کے خطیب جمعہ نے اپنے خطبوں میں یمنی مسلمانوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یمن کے موجودہ صدر کو صدام قراردیا ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زوردیا ہے کہ وہ یمن میں انسانی قتل عام کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق تہران کے خطیب جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی خطبات جمعہ میں یمنی مسلمانوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یمن کے موجودہ صدر کو صدام قراردیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ یمن میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انھوں نے وہابیوں کی طرف سے امت اسلامی میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہابیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی قسم کھا اٹھا رکھی ہے اور وہ امریکی آلہ کار بن کر امریکی مرضی کے مطابق کام کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی حکومت کو وہابیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنا چاہیے اور انھیں دہشت گردانہ اور شدت پسند کارروائیوں سے منع کرنا چاہیے لیکن افسوس کہ سعودی عرب نے ابھی تک دہشت گرد وہابیوں کی انتہا پسند کارروائیوں کو روکنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔

خطیب جمعہ نے امریکہ کے ساتھ روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ابھی اپنی درندگی کی خصلت ترک نہیں کی اور جب تک امریکہ ایسا نہیں کرتا اس کے ساتھ رابطہ قائم کرنا بے معنی اور بے سود ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایرانی عوام کو دھمکیوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین صدیقی نے کہا کہ ایرانی عوام امریکی دھمکیوں کے سامنے ہرگز تسلیم نہیں ہونگے۔ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔

بشکریہ از ریڈیو تہران